مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس اقدام کے جواب میں متقابل اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کو سیاسی محرکات پر مبنی اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینا ایک غیر منصفانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری، مساوات اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پاسداران انقلاب ایران کی سرکاری مسلح افواج کا ایک لازمی حصہ ہیں اور ایرانی فوج کے ساتھ مل کر ملک کی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
بیان میں داعش کے خلاف جنگ میں پاسداران انقلاب کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران کے دفاع، علاقائی امن و استحکام اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اس فورس کی خدمات سب پر عیاں ہیں۔
ایران نے برطانیہ کے اس اقدام کو ایک خودمختار ریاست کے سرکاری ادارے کے خلاف قابل مذمت اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق، مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران یہ فیصلہ اس اقدام کے محرکین کی شدید بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسیوں اور دیگر ممالک، خصوصاً مغربی ایشیا، کے معاملات میں مداخلت کے ریکارڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ لندن کو ایسے الزامات لگانے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ بے بنیاد سکیورٹی الزامات پر مبنی ہے، جبکہ خود برطانیہ پر دہشت گرد اور پرتشدد گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی حمایت کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ